اسرائیلی فوج  کی فائرنگ سے ایک نابالغ بچے سمیت دو فلسطینی شھید،اور دیگر زخمی

اسرائیلی فوج  کی فائرنگ سے ایک نابالغ بچے سمیت دو فلسطینی شھید، اور دیگر زخمی

اسرائیلی فوجیوں کے طرف سے شدید شیلنگ اور آنسو گیس کا استعمال۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کو مظاہرہ کرنے والے مظلوم فلسطینیوں لوگوں پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گول داغے جس میں ایک نابالغ بچے سمیت دو فلسطینی شھید اور 415 دیگر زخمی ہوگئے۔

اسرائیلی فوج  کی فائرنگ سے ایک نابالغ بچے سمیت دو فلسطینی شھید، اور دیگر زخمی

ہیلتھ افسر نے بتایا کہ 14 سالہ بچہ یاسر ابوالنزہ اور محمد اور محمد الحماد (24 ) کی گولی لگنے سے شھید ہوگئے۔

انھوں نے بتایا کہ چار دیگر لوگوں کو بھی گولیاں لگی جن کی حالت نازک ہے ۔اور اس کے علاؤہ 415 لوگ شدید زخمی ہوئے۔ 

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہزاروں فلسطینیوں نے، نہایت بہادری کے ساتھ ہمارہ مقابلہ کیا، فوجیوں پر گرینیڈ اور پتھر کے ساتھ ساتھ سرحدی باڑ اور جلتے ٹائروں کو پھینکا گیا۔

فوج نے غیر مناسبانہ طور پر کارروائی کی جس کہ نتیجہ میں معصوم بچے شھید ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ معصوم بچے کی مبینہ طور پر شہادت ہونے پر جانچ پڑتال کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر قانونی کاروائی بھی کی جاسکتی ہے۔

غزہ کے حکام کے مطابق گزشتہ 30 مارچ کو شروع ہوئے ہفتہ وار  احتجاجی مظاہرہ کے دوران اسرائیلی فوج اب تک کم از کم 135 لوگوں کو مار چکی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ مظاہر اسلام گروپ حماس کے ذریعے منعقد کیا گیا ہے جو غذا پٹی کو کنٹرول کرتا ہے اور اسرائیلیوں کو قبول نہیں کرتا اسرائیل نے ہمیشہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے بچوں اور خواتینوں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ حماس اس جنگ سے پیچھے ہٹ جائے۔

یہ بھی پڑھیں

 

حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری تازہ ترین نیوز اپڈیٹ 2023

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا۔

حماس اور اسرائیل جنگ تازہ ترین نیوز اپڈیٹ-غذا میں قتل عام کا 24 دن شدید بمباری

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *