اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا۔

 

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل 7 اکتوبر کی حملوں کے بعد سے دشمنی ختم کرنے پر اتفاق نہیں کرے گا۔

نیتن یاہو کہنا ہے کہ سیز فائر کا مطلب ہے اسرائیل دھشتگرد حماس کے اگے ہتھیار ڈال دے یہ جنگ کا وقت ہے یہ جنگ ہمارے مشترکہ مستقبل کے لیے ہے۔

 اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ آج ہمیں تہذیب اور بربریت کی قوتوں کے بیچ لکیر بنانی ہے اسرائیل ظالم  نے یہ جنگ شروع نہیں کی حماس اس جنگ کے ٹولے کا حصہ ہے جسے ایران تشکیل دے رہا ہے۔

دوستو واضح رہے کہ سات اکتوبر سے جاری حملوں میں شہید فلسطینی کی تعداد 8400 ہو گئی ہے جبکہ 23 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں شہدا میں سے 73 فیصد بچے خواتین اور عمر رسیدہ افراد ہیں۔

یہ بھی بڑھیں

حماس اور اسرائیل جنگ تازہ ترین نیوز اپڈیٹ-غذا میں قتل عام کا 24 دن شدید بمباری

 

اسرائیلی حملوں سے ہائرہ ایجوکیشن سے وابستہ سوا چار سو طلبہ بھی شہید ہوئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے ھلاکت کی تعداد 63 تک جا پہنچی ہے

کے علاوہ غذا کے ترک پرستین کینسرز ہسپتال پر بھی اسرائیل کی جانب سے بمباری کی گئی جس کی وجہ سے ہسپتال کا ایک حصہ تباہ ہو گیا۔

دن رات فضائی حملوں نے غذا کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا 45 فیصد رہائشی مکان اور عمارتین تباہی ہو گئی ہیں جبکہ سامان کی قلت کے  سبب اقوام متعداد کو امدادی مشن محدود کرنا پڑ گیا۔

قابض فوج نے غذا 24 دنوں میں 18 ٹن بارودی مواد گرا دیا۔

قابض فوج نے غذا 24 دنوں میں 18 ٹن بارودی مواد گرا دیا۔

فلسطینی سرکاری میڈیا آفس کی سربرا سلامہ معروف نے کہا ہے کہ اسرائیلی قبض فوجیوں نے غذا پر 18 ٹن بارودی  مواد سے بمباری کی جو ہیرو شیمہ پر گرائے گئے ایٹمی بم سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔

سرکاری میڈیا اخر اس کی سربراہ سلامہ معروف نے کہا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج نے غذا پر 18 ہزار ٹن بارودی معد سے بمباری کی جو ہیرو شما پر گرائے گئے ایٹمی بم سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے

معروف نے غذا میں پیر کے شام ایک پریس کانفرنس میں غذا کی پٹی پر مسلسل 24ویں دن جاری  اسرائیلی جاریت کے نقصانات اور افراد کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ غاصب دشمن فلسطینی خاندانوں کے خلاف 908 قتل عام کیے اس میں ہزار افراد کی جانیں گئی۔
سموکی پر 35 صحافی 124 طبعی عملے کے کارکنوں اور شہری دفاع کے 18 کارکن شہید ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ غازی مجرم سیونی فوج نے غذا کی پٹی میں بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنا کر نسل کشی کی مانگ شروع کر رکھی ہے اس دوران قبض فوج نے تین ماہ اور اٹھ ماہ کے درمیان کے درجنوں بچوں کو شہید کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کافی دشمن سے خاندانوں کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا جن میں مالکہ خاندان کے 17 افراد سعید ہوئے برکہ خاندان 18 خزائن خاندان 19 زنون خاندان کے 18 اور گرد خاندان کی 20 افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔

انہوں نے تصدیق کی ہے کہ غذا کی پٹی پر جاری جاریت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 8،306 ہو گئی ہے جن میں 3،457 بچے اور 21٫136 خواتین اور بچیاں شامل ہیں جبکہ پٹی کے اس اسپتالوں میں بھنچنے والے زخمیوں کی تعداد 21 ہزار 48 تک پہنچ گئی ہے

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *