حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری تازہ ترین نیوز اپڈیٹ 2023

غزہ: جبالیہ کیمپ میں قابض اسرائیلی بربریت نے انتہا کردی، سیکڑوں شھید اور زخمی 

حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری تازہ ترین نیوز اپڈیٹ

صیہونی قابض فوج نے منگل کی شام کی شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین ایک ہولناک قتل عام کا ارتکاب کیا کے اور اس کے مکینوں کے سروں پر ایک پوری رہائشی نالے کو الٹ کر رکھ دیا اس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطین شہید ہوئے۔

طبی ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق صہیونی فوجی کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے ہیں 100 فلسطینی شہید اور 400 زخمی انڈونیشیا کے ہسپتال پہنچے جبکہ درجنوں دیگر ملبے تلے دب ہونے کی اطلاعات ہیں۔

قابض فوجی کے جنگی تیاروں نے وسطی غذا کی پٹی میں نصیرات کیف میں انجینیئرز کی عمارت پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افراد زخمی اور شہید ہوئے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ یہ عمارت نو منزلوں پر مشتمل ہے اور اس میں کم از کم 24 رہائشی اپارٹمنٹس شامل ہیں-

تمام رہائشیوں اور بے گھر افراد کی رہائش پذیر تھے قابض فوج نے بغیر کسی وارننگ کی اس کی مکینوں کے سروں پر بمباری کی اور ابتدائی اندازوں کے مطابق 45 افراد شہید ہوئے

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ جبالیہ قتل عام کی تعداد سب سے زیادہ ہو سکتی ہے اور بیپٹسٹ ہسپتال کے قتل عام کے شہداؤں کی تعداد کے قریب ہو سکتی ہے۔

مقام ذرا نے کہا قاضی حامل 20 مرزا ہے لوگ چھ بڑے ہیں امریکی بموں سے کم از کم 20 مکان اپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دسیوں افراد شہید ہو گئے۔

جبالیہ کیمپ ہیں سب سے زیادہ پر ہجوم فلسطینی کیمپ ہیں اور اسی دنیا کا سب سے زیادہ پر ہجوم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

غزہ میں وزارت داخلہ کی ترجمان ایاد البزم نے تصدیق کی قابض طیارے نے جبالیہ کیمپ کے رہائشی چوک پر 6 بم گرائے جن میں سے ہر ایک کا وزن ہزار کلوگرام تھا۔

انہوں نے کہا کہ جبالیہ کیمپ کے قتل عام کے شہداؤں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین  تھی۔

یہ بھی پڑھیں

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا

حماس اور اسرائیل جنگ تازہ ترین نیوز اپڈیٹ-غذا میں قتل عام کا 24 دن شدید بمباری

جبالیہ کیمپ میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ لوگ رہتے ہیں جو صرف ایک چار مربع کلومیٹر کے رقبے پر واقع ہے۔

ہتھیار چلانے والا ہر مسلمان قبلہ اول کے لیے اٹھ کھڑا ہو: خالد مشعل۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری تازہ ترین نیوز اپڈیٹ

اسلامی مزاحمت حماس کے بیرون ملک امور کے رہنما خالد مشعل نے زور دے کر کہا کہ ہتیار اٹھانے والے ہر شخص کو الاقصی اور ملت اسلامیہ کی نصرت کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

 ٹی آر ٹی کے ساتھ ایک انٹرویو میں مشعل نے علماء سے مطالبہ کیا کہ وہ فتوی جاری کر کے غزہ اسرائیلی جرائم کے حوالے سے حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔

انہوں نے کہا کہ پوری مسلم امہ کے عوام کو غذا پر جارحیت کی مذمت کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے منگل کی شام جبالیہ کیمپ میں قابض فوج کے گھناؤں نے مجرمانہ قتل عام کی مذمت کی جس کے نتیجے میں پانچ سو فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ القسام میں ہمارے ہیروز دشمن سے بھرپور انداز میں لڑ رہے ہیں قابض دشمن کو فوجی شکست ہوئی ہے اور اب وہ بچوں عورتوں سے انتقام لے رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکی صدر پر مجرمانہ دہشت گردی کی جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

حماس کے رہنما نے کہا کہ اج ہم نہ صرف الاقصی اور فلسطین کا دفاع کر رہے ہیں بلکہ ہم امۃ مسلمہ کے وجود کا دفاع کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وقت حق اور بیداری کا ہے تاکہ قوم کے مفاد کا دفاع کیا جا سکے اور قابض دشمن کے خلاف جنگ میں ہاتھ میں ملایا جا سکے۔

انہوں نے رفع کراسنگ کے راستے کو غیر مشروط طور پر کھولنے اور غذا کے لوگوں کو ریلیف دینے پر زور دیا۔

مشعل نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد دنیا جرم کو روک سکتی ہے مگر ہم دنیا سے یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ وہ مزید کتنے ہفتے قتل عام کا مزید انتظار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ اور مسجد اقصیٰ کو ناکام بنانے والے خدا اور تاریخ سامنے کیا کہیں گے؟
انہوں نے روس اور چین پر زور دیا کہ وہ غزہ خلاف جارحیت کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کریں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض ابھی تک 7 اکتوبر کے صدمے کو جذب نہیں کرسکا ہے اور مزاحمت کی جانب سے حیرت سے پریشان اور خوفزدہ ہے۔

خالد مشعل نے کہا کہ مزاحمتی فورسز نے انٹیلی جنس، زمینی ، میڈیا اور جنگ کے تمام میدانوں میں دشمن پر سبقت حاصل کر لی

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *