سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی زخمیوں کی تعداد  سات سو باسٹھ ہزار ہوگئی ہے۔
|

سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی زخمیوں کی تعداد  سات سو باسٹھ ہزار ہوگئی ہے۔

سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی زخمیوں کی تعداد  سات سو باسٹھ ہزار ہوگئی ہے۔

سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی زخمیوں کی تعداد  سات سو باسٹھ ہزار ہوگئی ہے۔

صیہونی قبض افواج نے منگل کی شام تسلیم کیا کے ساتھ اکتوبر کو طوفان الاقصی کے اغاز کے بعد سے اسرائیلی زخمیوں کی تعداد 7262 ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے اغاز سے ہسپتالوں میں زیر علاج زخمی کی تعداد 7262 اسرائیل تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ اس وقت ہسپتال میں زیر علاج زخمی کی تعداد 342 ہے جن میں سے 51 کی حالت تشویشناک ہے اور ان میں سے 152 خطرے سے باہر ہیں۔

 قابض استاد نے اس سے قبل سات اکتوبر سے غذا کی پٹی میں زمینی دراندازی میں 32 افسران اور فوجیوں سمیت تقریبا 1،600  فوجیوں اور افسران کی ہلاکت کا اعتراف کیا تھا اس کے علاوہ کم از کم242   کو گرفتار کیا گیا تھا۔

قبل عظیم منگل کی شام اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگری نے اعلان کیا تھا کہ مرنے والوں میں اسرائیلی فوج کے تعداد 348 فوجی اور افسران اور 59 پولیس افسران اور  اور 10 جنرل سیکرٹری ایجنسی سن بیڈ کے اہلکار شامل ہیں۔

غذہ پر صیہونی غاصب فوج کی 32 روز سے تباہ کن جنگ جاری ہے جس میں 4237 بچے اور 2719 خواتین سمیت 10328 فلسطینی شہید اور 26 ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں مغربی کنارے میں 183 فلسطینی شہید اور  2215 کو گرفتار کیا گیا ہے

غزہ پولو کاسٹ میں 40 ہزار فلسطینی شہید اور زخمی اور لاپتہ ہو چکے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ سلامہ معروف نے کہا ہے کہ غاصب صہیونی فوج سات اکتوبر سے غذا کی پٹی کے خلاف ہولو کاسٹ کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جس میں بڑے جنگی جرائم بھی شامل ہیں جن میں سے 40 ہزار شہری شہید زخمی اور لاپتا ہوئے ہیں۔

معروف نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ  جارحیت کے آغاز سے اب تک 10328 شہید ہو چکے ہیں جن میں 4237  بچے 2719، خواتین اور لڑکیاں اور 631 بزرگ شامل ہیں 3 ہزار سے زیادہ لاپتہ افراد اور 26 ہزار شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع درج کی گئی ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومتی ٹیموں نے غزہ سٹی اور شمالی غذا کی پٹی کے ایک ہزار اکیس رہائشوں کی امد ریکارڈ کی ہے جو ان علاقوں میں بے گھر ہو گئے تھے جن اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ جنوبی غزہ کی پٹی میں محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ غذا کی پٹی میں سات اکتوبر کو جنگ کے اغاز سے لے کر اب تک 30 ہزار ٹن سے زیادہ بارودی مواد سے کی گئی جس کے نتیجے میں دو لاکھ 22 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا اور 40 ہزار مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے 192 طبعی اور صحت کے اہلکاروں کی بازیابی کی تصدیقی 40 ایمبولنس سے تباہ 113 صحت کے اداروں کو شدید نقصان پہنچا اور 18 اسپتالوں اور 40 مراکز صحت کو سروس سے باہر کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض دشمن فوج نے فلسطینی خاندانوں کے خلاف ایک ہزار ایکہتر قتل عام کا ارتقاب کیا جس میں ہزاروں شہید اور زخمی ہوئے۔

جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی جبکہ  1۔5 ملین شہری اپنے گھروں سے پناہ گاؤں یا رشتداروں کے طرف بے گھر ہوئے ہیں۔

سلام معروفانی کہا ہے کہ مبلغین اور عبادت گاہوں کو جرائم اور ببریت سے نہیں بخشا گیا کیونکہ غذا میں 53 علماء شہید ہو گئے ہیں جبکہ اسرائیلی کاغذ فوج نے 56 مساجد کو مکمل طور پر 136 دیگر کو جزوی طور پر اور تین گرجا گھروں کو تباہ کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری میں 237 اسکول تباہ ہوئے 60 اسکولوں کو سروس سے محروم کر دیا 88 سرکاری ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کر دیا اور جارحیت کے اغاز سے لے کر اب تک ان چار صحافیوں کو شہید کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومتی عمل صہونیوں کی زبردست بمباری اور فیلڈ اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں پانی سیورج ٹرینمنٹ پلانٹس اور پانی کے کنوؤں کو پہنچنے والے نقصانات کا مکمل اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *